AMD

A U T I S M  A W A R E N E S S 
P H O T O G R A P H Y 
P O L I T I C S 
W O R K

وہ یہ بتانا بھول گیا کہ ان میں سے لا تعداد ووٹ ڈھٹائی کی بد ترین نمائش کے ساتھ چوری کر لئیے جائیں گے

Updated: Oct 8, 2018


ایک بھائی جو کہ میاں صاحب کے ذاتی ویلے ہیں اُن سے ۱۳ جولائی کے بعد جب پہلی دفعہ فون پر بات ہوئی تو گرفتاری کی روداد سن کر رونا بھی آیا اور ساتھ ہی ساتھ بے پناہ حوصلہ بھی ملا۔ سنیں اُن کی زبانی:


‏ "گرفتاری کے لئیے جب افسران آئے تو میں صاحب کے ساتھ کھڑا تھا۔ میں بولا میں صاحب ‏کے ساتھ جاؤں گا۔ قریب ہی ڈاکٹر عدنان (میاں صاحب کے پرسنل فیزیشن اور کارڈیالوجسٹ) بھی تھے جو بضد تھے کے وہ بھی اسلام آباد تک صاحب کے ساتھ سفر کریں گے۔ ایک افسر جس نے گلاسز لگا رکھے تھے بولا کہ کسی کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں۔ یہ سن کر میں میاں صاحب کے ساتھ اور جُڑ کر کھڑا ہو ‏گیا۔ میرا ایسا کرنا تھا کہ اُس افسر نے مجھے دھکا دے کر کچھ ایسے پیچھے کیا کہ میں زمین پر جا گرا۔ ڈاکٹر عدنان کے ساتھ بھی زور زبردستی کی گئی اور اُن کو بھی میاں صاحب سے علیحدہ کر دیا گیا۔ ہم دیکھتے رہ گئے اور میاں صاحب اور مریم باجی کو دوسرے جہاز میں بیٹھا دیا گیا۔


مسافر بس ‏میں بیٹھنے سے پہلے میری اُس افسر پر دوبارہ نظر پڑی۔ میں اپنے جزبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ قریب گیا اور بولا: 'مجھے دھکا دے کر صاحب سے علیحدہ کر کے سکون مل گیا آپ کو؟' جواب میں اُس افسر نے اپنی گلاسز اُتاریں اور بولا: 'بھائی میں نے جو کچھ کیا بڑی مجبوری میں کیا۔ میرا دل رو رہا ہے۔' ‏اُس کا یہ کہنا تھا کہ وہ افسر زار و قطار رونے لگا۔"


‏ یہ تمام روداد سنا کے بھائی مجھے کہتا ہے کہ سر آپ بلکل فکر نہ کریں۔ پاکستان اس وقت اس افسر جیسے لا تعداد لوگوں سے بھرا پڑا ہے جو بحالتِ مجبوری خاموش بیٹھے ہیں لیکن اپنے جزبات اور غصہ ۲۵ جولائی کو میاں صاحب ‏کو اتنے ووٹ ڈال کر نکالیں گے کہ تاریخ میں کسی جماعت کو اتنے ووٹ نہیں پڑے ہوں گے۔ اِن شاءاللہ! ⁦


پھر ہوا کچھ یوں کہ ۲۵ جولائی کا الیکشن پاکستان کی تاریخ کا سب سے جانبدار، متنازعہ اور دھاندلی زدہ الیکشن نکلا۔ دھاندلی انتخابات کے دن تک محدود نہ تھی بلکہ قبل اور بعد از انتخابات بھی ایسے ہی متحرک انداز میں ہوتی نظر آئی۔ نیب و دیگر کا استعمال کر کے ۵۰ سے زائد وِننگ کانڈیڈیٹس کی وفاداریاں پی ٹی آئی یا اُن کے اتحادیوں کے حق میں تبدیل کروائی گئیں۔ ریکارڈ تعداد میں ووٹ ریجیکٹ کئیے گئے جو سابقہ الیکشن کی بنسبت دو گنا سے بھی زیادہ تھے اور ۹۰ فیصد سے زائد حلقوں میں اس کا فائدہ پی ٹی آئی یا ان کے اتحادیوں کو ہوا۔ درجنوں حلقوں میں ریجیکٹڈ ووٹوں کی تعداد جیت کے مارجن سے زیادہ تھی جو صاف بتاتی ہے کہ کیسے پی ٹی آئی کے سہولت کاروں نے تکنیکی انداز سے ن لیگ کے ووٹوں پر اضافی ٹھپے مار کر اُن کو گنتی سے خارج کروایا۔ فوج کے ۳ لاکھ ۷۱ ہزار جوان اور پولیس کی ساڑھے چار لاکھ نفری پولنگ کے دن مسلط کی گئی۔ پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکال کر فارم ۴۵ میں من گھڑت نتائج کا اندراج کیا گیا۔ نادرہ کا آر ٹی ایس سِسٹم ۲۵ جولائی کی رات ۱۱ بج کر ۴۷ منٹ پر اچانک بند کر دیا گیا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ اس میں تکنیکی خرابی ہو گئی تھی جبکہ نادرہ نے اس دعوی سے مکمل انکار کیا۔ جن حلقوں میں دوبارہ گنتی کی اجازت ملی وہاں ۹۰ فیصد کیسز میں ن لیگی اراکین کی ہار جیت میں بدل گئی (ایک حلقے میں تو دوبارہ گنتی میں دس ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق کا انکشاف ہوا) اور اس کے ساتھ ہی دوبارہ گنتی کے حکم نامے آنے بند ہو گئے۔


کہا تو اُس بھائی نے ٹھیک تھا کہ ۲۵ جولائی کو لوگ اپنے جزبات اور غصہ میاں صاحب ‏کو اتنے ووٹ ڈال کر نکالیں گے کہ تاریخ میں کسی جماعت کو اتنے ووٹ نہیں پڑے ہوں گے، بس یہ بتانا بھول گیا کہ اُن میں سے لا تعداد ووٹ ڈھٹائی کی بد ترین نمائش کے ساتھ چوری کر لئیے جائیں گے۔۔۔

213 views0 comments
Follow Twitter.png